لامہ اعظمی صاحب قرآن مجید اوراردو کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کر کے مدرسہ اسلامیہ گھوسی میں داخل ہوئے اوراردوفارسی کی مزید تعلیم پائی۔ چند ماہ مدرسہ ناصر العلوم گھوسی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ معروفیہ معروف پورہ میں میزان سے شرح جامی تک پڑھا۔ پھر 1351ھ میں مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ ضلع مرادآباد (اتر پردیش) کا رخ کیا اوروہاں شیخ العلماء مولانا شاہ اویس حسن عرف غلام جیلانی اعظمی (شیخ الحدیث دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف متوفی 1397ھ اور مولانا حکمت اللہ صاحب قبلہ امروہی اور مولانا سید محمد خلیل صاحب چشتی کاظمی امروہی کی خدمت میں ایک سال رہ کر اکتساب فیض کیا۔
اس کے بعد 1352ھ میں صدرالشریعہ مولانا حکیم محمد امجد علی صاحب اعظمی کے ہمراہ بریلی شریف تشریف لے گئے اورمدرسہ منظر اسلام محلہ سوداگران بریلی میں داخل ہوکر تعلیمی سلسلہ شروع فرمایا۔ ملا حسن، میبذی وغیرہ چند کتابیں محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سرداراحمد صاحب چشتی گورداسپوری سے پڑھیں باقی کتابیں صدرالشریعہ سے پڑھیں۔
ا س دوران میں حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامدرضا خان صاحب (خلف اکبرسرکاراعلیٰ حضرت امام احمد رضا )کی خدمت میں حاضری دی اور شرفیاب ہوئے۔ موصوف آپ پر بڑا کرم فرمایا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے برادرخورد مولانا محمد رضا خان صاحب عرف ننھے میاں سے فرائض کی مشق کی اور مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان نوری (زیب سجادہ عالیہ قادریہ رضویہ بریلی شریف، خلف اصغرحضور اعلیٰ حضرت )کے دارالافتاء میں بھی حاضری دی۔
بریلی شریف میں دوران میں طالب علمی آپ کی اقتصادی حالت اچھی نہیں تھی۔ مسجدکی امامت اورٹیوشن سے اخراجات پورے کرتے تھے۔ جب صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب بریلی سے رخصت ہوکر مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڑھ میں مسند تدریس پر جلوہ فرما ہوئے تو مولانا اعظمی صاحب بھی بریلی شریف نہ رہ سکے اور10 شوال 1355ھ کو علی گڑھ صدرالشریعہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورمدرسہ حافظیہ سعیدیہ میں داخلہ لیا اور امتحانات میں اچھی پوزیشن سے کامیاب ہوکر انعامات بھی حاصل کیے ۔
علی گڑھ کے دورانِ قیام حضر ت مولانا سید سلیمان اشرف بہاری پروفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (خلیفہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ) کی خدمت میں بھی حاضری دیتے اورعلمی اکتساب فرماتے رہے ۔ 1356ھ میں مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں سے سند فراغ حاصل کیا۔ حضرت مولاناسید شاہ مصباح الحسن صاحب چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سر پردستار فضیلت باندھی۔