فارغ التحصیل ہونے کے بعد سب سے پہلے مدرسہ اسحاقیہ جودھ پور (راجستھان) میں مدرس ہوئے۔ درس نظامی کا افتتاح فرمایااورمدرسہ ترقی کی راہ پر چل نکلا تھا کہ اچانک جودھ پور میں ہندو مسلم فساد ہونے کی و جہ سے بہت سے بیرونی علما کے ساتھ آپ کو گرفتار کیا گیا اوربعد میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام لگا کر حکومت نے شہر بدرکردیا جس سے مدرسہ کوبھی نقصان ہوا اورمولانا موصوف کو بھی وہاں سے آنا پڑا۔

ستمبر 1939ء قاضی محبوب احمد کی دعوت پر امروہہ تشریف لے گئے اوروہاں مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں جس کا سلسلہ تین سال تک رہا۔ اس وقت وہاں پر مولانا سیدمحمد خلیل صاحب کاظمی امروہی صدر مدرس تھے اس دوران میں بھی موصوف سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد 1942ء میں دار العلوم اشرفیہ مبارکپور میں تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا اور گیارہ سال تک یہاں بھی درس دیتے رہے اور اس کی تعمیر وترقی میں بھرپور حصہ لیا۔

1952ء میں آپ کا احمد آباد گجرات (بھارت)  میں بسلسلہ تقریر دورہ ہوا۔ متعدد تقاریر کے سبب لوگ گرویدہ ہوئے اورجب وہاں پر ایک دار العلوم کا قیام عمل میں آیا تو احمد آباد کے عمائد اہل سنت نے بہ اصرار مبارک پورسے بلواکر دار العلوم شاہ عالم میں مدرس رکھا۔ اس سلسلے میں مولانا ابراہیم رضا خاں صاحب نبیرہ اعلیٰ حضرت اورحضورمفتی اعظم ہند نے بھی دار العلوم کے قیام اورترقی میں بھر پور حصہ لیا۔

مولانانے اس دار العلوم کی ترقی اوربقا میں بھر پور اورجان توڑکر کوشش کی اور اس کو عروج تک پہنچا کر دم لیا۔

اس کے بعد حج بیت اللہ کو روانہ ہوئے۔ واپسی پر دار العلوم صمدیہ بھیونڈی (مہاراشٹر)کی طلبی پر طلبہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدرسہ مذکور میں تشریف لے گئے اورچار برس تک جم کر وہاں تدریسی خدمات کو انجام دیا اور مدرسہ مذکور کی تعمیر میں بھی بھرپورکوشش فرمائی، جس کے طفیل ایک شاندار عمارت آج بھی موجود وشاہد ہے ۔

اس کے بعد فوراً دار العلوم مسکینیہ دھوراجی گجرات سے طلبی آگئی اورمولانا حکیم علی محمد صاحب اشرفی کے اوردوسرے لوگوں کے اصرار پر وہاں مع جمعیۃ طلبہ تشریف لے گئے مگر وہاں بھی زیادہ دنوں قیام نہ کرسکے اور بالآخردارالعلوم منظر حق ٹانڈہ فیض آباد (یوپی)میں بعہدہ صدرالمدرسین وشیخ الحدیث تشریف لے گئے جہاں تقریباًدس سال سے علوم و معارف کے گوہر لٹا رہے ہیں۔ خدا نے تفہیم کی خوب خوب صلاحیت بخشی ہے۔ تمام متداول کتابوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں اورپوری مہارت سے درس دیتے ہیں اورطلبہ خوب مانوس ہوتے ہیں۔ تدریس کی اس طویل مدت میں طلبہ کی ایک تعدادتیار ہو گئی اور آج ملک وبیرون ملک آپ کے تلامذہ تدریس و تقریراور مناظرہ و تصنیف کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔